+92-061-6514525 6 7

تعارف

تعارف و خدمات

وفاق المدارس العربیہ پاکستان

قرآن وحدیث کی تعلیمات کے بغیر کسی اسلامی معاشرہ کی بقاء اور اس کے قیام کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی تعلیمات ہی پر کسی اسلامی معاشرہ کی بنیاد اور داغ بیل ڈالی جا سکتی ہے۔ قرآن و حدیث اسلامی تعلیمات کا منبع ہیں اور دینی مدارس کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے ماہرین ، قرآن و حدیث پر گہری نگاہ رکھنے والے علماء اور علوم اسلامیہ میں دسترس رکھنے والے رجال کار پیدا کئے جائیں۔ جو آگے مسلمان معاشرہ کا اسلام سے ناطہ جوڑنے ، مسلمانوں میں اسلام کی بنیادی اور ضروری تعلیم عام کرنے اور اسلامی تہذیب و تمدن کی ابدی صداقت کو اجاگر کرنے کا فریضہ انجام دیں ۔

برصغیر میں دینی روایات اور اسلامی اقدار کے تحفظ و سر بلندی کے لئے علماء حق نے جو مجاہدانہ و سرفروشانہ کردار ادا کیا ہے، وہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ مشیت خداوندی نے بر صغیر کے اہل علم کے لئے یہ سعادت مقدر کی کہ انہوں نے ماٰثر اسلامیہ کی حفاظت کے لئے دیگر عالم اسلام کے طریق سے ہٹ کر مدارس دینیہ کے قیام و استحکام کا بے نظیر کارنامہ سر انجام دیا۔مدارس دینیہ کی یہ عظیم طاقت مختلف حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد اکا بر علماء دیوبند نے مسلمانانِ پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے‘ مملکتِ خداداد پاکستان میں دینی مدارس کے تحفظ و استحکام اور باہمی ربط کو مضبوط بنانے اورمدارس کو منظم کرنے کے لئے ایک تنظیم کی ضرورت محسوس کی ۔

چنانچہ اسی مقصد کے لئے اکابر علما ء دیوبند کا اجلاس جامعہ خیرالمدارس ملتان میں 20 شعبان المعظم 1376ھ مطابق22 مارچ 1957ء کو استاذالعلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھری نور اللہ مرقدہ کی صدارت میں منعقد ہوا اور ایک تنظیمی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ تنظیمی کمیٹی کے اجلاس منعقدہ 14-15ربیع الثانی 1379ھ مطابق 18-19اکتوبر 1959 میں باقاعدہ طور پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نام سے ایک ہمہ گیر تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔جس میں وفاق کے دستور کی منظوری کے ساتھ ساتھ تین سال کے لئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا۔ صدر وفاق: شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ ، نائب صدر اول استاذالعلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، نائب صدر دوم محدث عصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، ناظم اعلی: محمودالملۃ حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ، خازن: فقیہ العصرحضرت مولانا مفتی عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ۔حق تعالی شانہ نے وفاق کے قیام کا عظیم کام ان مقتدر و مقبول ہستیوں سے لیا۔

ملک گیر سطح پر تمام دینی مدارس کی ایسی فعال اور مربوط تنظیم کی مثال دیگر اسلامی ممالک میں نہیں ملتی۔ یہ امتیاز صرف پاکستان کے دینی مدارس کو حاصل ہے کہ وہ ایک مربوط تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں اور کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت اور شعائر اسلام کے تحفظ و بقاء کے لئے ان کی آواز ایک ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں متعدد حکومتوں نے دینی مدارس کو کچلنے اور ان کی آزادی کو پامال کرنے کی مختلف کو ششیں کی ہیں، مگر بحمد اللہ وفاق المدارس نے ایسے ہر موقع پر مدارس کو حکومتی مداخلت اور سرکاری دستبرد سے بچانے کے لئے اپنا فریضہ نہایت دیانت و جرأت سے انجام دیا اور انشاء اللہ آئندہ بھی دینی مدارس کے تحفظ و بقا ء کے لئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان اسی طرح اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

وفاق المدارس نے دینی مدارس کے تحفظ و بقاء‘ اہل علم کے درمیان توافق و رابطہ‘ نظام تعلیم و امتحانات میں یکجہتی‘جامع نصاب کی ترتیب شہادات کے اجراء اور جدید علوم و فنون اور عصری تقاضوں کے مطابق حسب ضرورت اب تک جو اقدامات کئے ہیں وہ بلاشبہ تاریخ ساز ہیں۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان اِس وقت حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ( صدرِ وفاق) اور حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب مدظلہ العالی ( ناظم اعلیٰ وفاق) کی قیادت میں دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے اور ملک کا سب سے بڑا دینی تعلیمی بورڈ ہے۔ جس کے تحت اٹھارہ ہزار نو سو اڑتالیس(18948) مدارس وجامعات مع شاخہائے کام کر رہے ہیں۔ان مدارس میں ایک لاکھ ستائیسہزار چون(127054)اساتذہ کرام خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جبکہ اکیس لاکھ پچاسی ہزار چار سو چوالیس (2185444)طلبہ /طالبات زیر تعلیم ہیں

وفاق المدارس سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے علماء کی تعدادایک لاکھ چھتیس ہزار تریسٹھ(136063)، عالمات کی تعدادایک لاکھ پچھتر ہزار چار سوبارہ(175412) اور حفاظ کی تعداد دس لاکھ چون ہزار پانچ سو اکیاون(1054551) ہے۔

ضابطہ کار:

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا صدر دفتر ملتان میں ہے۔ اس کا دائرہ کار اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، البتہ مجلس عاملہ کی منظوری سے بیرونی ممالک کے دینی مدارس و جامعات کا الحاق بھی ,, وفاق،، کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ وفاق المدارس کی اصل قوت اس کی مجلس شوریٰ ہے اور وہی وفاق کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کی نگران ہے اور وفاق کے عہدیداران کا انتخاب کرتی ہے۔ مجلس عاملہ ,, وفاق،، کے نظم و نسق کی ذمہ دار ہے۔ ,, وفاق،، کی دستوری، تعلیمی و تربیتی اور جملہ امور کے نگران صدر وفاق ہیں۔ صدر وفاق کی عدم موجودگی میں نائب صدر امور وفاق کی نگرانی کر تے ہیں۔ جبکہ ناظم اعلیٰ، وفاق کے انتظامی و امتحانی امور کے ذمہ دار ہیں اور ناظم مالیات ,, وفاق،، کے مالیات و حسابات کے ذمہ دار ہیں۔

”وفاق المدارس العربیہ پاکستان“ ایک خالص تعلیمی اور غیر سیاسی تنظیم ہے۔ جس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہ ہے اور وفاق بحیثیت وفاق نہ کوئی سیاسی موقف اختیار کر تا ہے نہ ملکی سیاست کے کسی مسئلہ میں اظہار رائے کر تا ہے اور نہ ہی اس بارہ میں ملحقہ مدارس و جامعات کو کوئی ہدایت جار ی کرتا ہے۔

وفاق کا مسلک:

,, وفاق،، کا مسلک عقائد اہل السنۃ والجماعۃ مطابق تشریحات فقہ حنفی و سلف صالحین اکابر علماء دیوبند ہوگا۔

 

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اغراض و مقاصد:

  • (۱) ملحقہ جامعات و مدارس عربیہ کے جملہ درجات بشمول تکمیل و تخصص و تدریب المعلمین و المعلمات کے لئے جامع نصاب تعلیم مرتب کرنااور امتحانات میں کامیاب طلبہ و طالبات کوشہادات (اسناد)جاری کرنا۔
  • (۲) مدارس عربیہ و جامعات میں باہمی اتحاد و ربط پیدا کرنے کی کوشش اور ان کو منظم کرنا۔
  • (۳) مروجہ نصاب تعلیم میں جدید دینی تقاضوں کے مطابق مناسب و موزوں تصرف کرنا اور حسب ضرورت کتب طبع کرانا۔
  • (۴) وہ مدارس و جامعات جو اس وفاق سے الحاق کریں ان میں نصاب تعلیم‘ نظام تعلیم اور امتحانات میں باقاعدگی،یک جہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنا۔
  • (۵) جدید عصری تقاضوں کے مطابق تعلیمات اسلامیہ کی ترویج اور نشر و اشاعت اور اہم موضوعات پر مستند اور تحقیقی کتابیں تالیف و تصنیف کرانا۔
  • (۶) مدارس دینیہ و جامعات کے تحفظ و ترقی اور معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لئے صحیح اور موثر ذرائع اختیار کرنا۔
  • (۷) تربیت المعلمین والمعلمات کا موثر و مناسب انتظام کرنا۔
 

وفاق المدارس کے امتحانات کا دائرہ کار:

وفاق المدارس کے اغراض و مقاصد میں اہل علم کے درمیان توافق و رابطہ، نظام تعلیم میں یکسانیت اور امتحانات و نصاب میں یکجہتی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ان امتحانات میں ہر سال ملک بھر کے مدارس و جامعات کے دو لاکھ سے زائدطلبہ و طالبات شرکت کرتے ہیں۔ انتظامی طور پر یہ ایک مشکل کام ہے کہ خیبر سے کراچی اور کوئٹہ سے گلگت تک تمام مدارس و جامعات کے طلبہ ایک مقررہ تاریخ اور معین وقت میں متعین مراکز کے اندر جمع ہو کر اس شان سے امتحان دیتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں پرچہ سوالات پورے ملک کے طلبہ کے ہاتھوں میں پہنچتا ہے۔,,وفاق المدارس،، کے امتحانات میں نگران اعلیٰ و معاون نگران اجنبی اور دیانت دار علماء ہوتے ہیں۔ جن سے کسی ناجائز مراعات کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ طلبہ و طالبات صرف اپنی ذاتی استعداد و قابلیت ہی سے پرچہ حل کرتے ہیں۔ امتحان کا مقررہ وقت ختم ہوتے ہی ہر مرکز کے ناظم امتحان تمام کاپیوں کے بنڈل کو سیل کر کے اسی وقت دفتر وفاق کو رجسٹری کر د یتے ہیں۔ حکومت اپنے تمام تر وسائل کے باوجود انتظامی دشواریوں کے باعث ہر ڈویژن میں الگ تعلیمی بورڈ قائم کرتی ہے جو کہ ایک وقت میں ایک کلاس کا امتحان لیتے ہیں۔ مگر بحمداللہ ,, وفاق المدارس،، ملکی سطح پر ایک ہی وقت میں تمام درجات کا امتحان لیتا ہے اور ایک ماہ کے اندر نتائج کا اعلان کرتا ہے۔

امتحانی مراکز سے جوابی کا پیاں دفتر وفاق کو موصول ہونے کے بعد طالب علم کے نام اور رول نمبر کی چٹ، جوابی کاپی سے الگ کر کے فرضی نمبر لگا دیے جاتے ہیں۔ جس کے بعد کسی شخص کے لئے کاپی کی شناخت ممکن نہیں۔جوابی کاپیوں کی مارکنگ دفتر وفاق المدارس میں امتحانی کمیٹی کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ ممتحنین حضرات وفاق کی طرف سے مقرر کردہ تعداد اور معیارکے تحت جوابی کاپیوں پر صرف طالب علم / طالبہ کی محنت و استعداد کے مطابق نمبر لگا تے ہیں۔ ہر درجہ میں بیس سے پچیس ممتحنین پر ایک ممتحن اعلیٰ مقرر کیا جاتا ہے۔ جو ممتحنین کے چیک کئے ہوئے بعض پرچوں پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ اور اگر ان کی مارکنگ کے معیار میں کمی و بیشی ہو تو بروقت تنبیہ کرتے ہیں۔ معیار کا جائزہ لینے کے لئے صدر وفاق اور ناظم اعلیٰ وفاق بھی مارکنگ کے دوران، مرکزی دفتر میں موجود رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً چیک شدہ پرچوں کا معائنہ فرماتے ہیں۔

,, وفاق المدارس،، کے اس محفوظ اور ہر طرح سے قابل اعتماد نظام امتحانات میں کسی طالب علم یا مدرسہ کے ساتھ رعایت کئے جانے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ مشہور و معروف جامعات کے ساتھ ساتھ گم نام اور غیر معروف مدارس کے طلبہ و طالبات بھی امتیازی پوزیشن حاصل کرتے رہتے ہیں۔

وفاق المدارس کے سالانہ امتحانات 1437ھ 2016/ء کے لئے مدارس و جامعات سے دو لاکھ ستاسی ہزار تین سو اڑتالیس(287348) طلبہ / طالبات کے داخلے موصول ہو ئے، کامیابی کا تناسب 81.7 فیصد رہا۔ جن کے لئے ایک ہزارسات سو پچھتر(1775) مراکز امتحان قائم کئے گئے۔ امتحانی نظم کو ضلعی سطح پر مسؤلین کے ذریعے مرکزی دفترسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

 

وفاق المدارس کا نصاب تعلیم و نظام تعلیم:

وفاق کی کوشش یہ ہے کہ ایسا مبارک و مسعود نظم اور اتحاد ملک کے تمام مدارس وجامعات میں پیدا ہو جائے کہ ایک ہی نصاب تعلیم اور ایک ہی نظام تعلیم ہو۔اسباق کے آغاز، تعطیلات، سہ ماہی وششماہی اور سالانہ امتحانات کی تاریخ یکساں ہو اور اسی طرح تمام مدارس کے نتائج کا اعلان بھی ایک ہی وقت میں ہو۔ غرضیکہ ہر مدرسہ میں انتظامی اور تعلیمی قواعد و ضوابط ایک ہوں اور تمام مدارس کے اساتذہ و طلبہ یکساں طور پر ان کے پابند ہوں۔ ہر مدرسہ میں طلبہ کے داخل و خارج کے فارم، رجسٹر حاضری مدرسین وطلبہ بھی ایک ہی ہوں۔ ایک قسم کے تصدیق نامے (سرٹیفکیٹ) کے ذریعے طلبہ ایک مدرسہ سے دوسرے مدرسہ میں منتقل ہوں۔ ہر مدرسے کے مدرسین و طلبہ کے حقوق بھی یکساں متعین ہوں اور وہ یکساں طور پر ادا کیے جاتے ہوں۔ کوئی کسی پر زیادتی اور تعدی بھی نہ کر سکے اور کوئی کسی کے ساتھ نا جائز مراعات بھی نہ کر سکے۔ سب ایک ہی مقصد اللہ کے دین کی حفاظت اور اعداء دین کے حملوں سے اس کو بچانے کے لئے جمع ہوں۔ پڑھنے والے صرف اسی غرض کے لئے پڑھیں، پڑھانے والے پڑھائیں، انتظام کرنے والے اسی مقصد وحید کے لئے جدو جہد کریں اور مالی امداد کرنے والے اسی واحد غرض و غایت کے لئے امداد کریں۔ اس نصاب تعلیم، امتحانات میں با ضابطگی، قواعد و ضوابط کی پابندی اور مرکزی طاقت وفاق کی کڑی نگرانی کے بعد کسی بھی مہتمم، مدرس یا ممتحن کے لئے یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ اپنے شخصی تعلقات یامصالح کی بناء پر کسی بھی نا اہل طالب علم کو مدرسہ میں داخل یا امتحانات میں کامیاب کرا سکے۔

یہ حقیقت تو اس قدر قطعی اور یقینی طور پر مسلم ہے اور بحث سے بالا تر کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں مطمئن اور باعزت زندگی بسر کرنے کے لئے بقاء باہمی کے اصول پر جماعتی اتحاد و تنظیم از بس ضروری ہے اور یہ تنظیم جس قدر محکم اور ہمہ گیر ہو گی اسی قدر آفات و مصائب سے تحفظ اور ترقی و کامرانی کی زیادہ ضامن ہو گی۔آج کے دور میں انفرادی طاقت کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو بقاء و تحفظ کے بارے میں قطعاً نا قابل اعتماد ہی نہیں بلکہ نا کام ہے۔ آج طاقت، اجتماعی طاقت او رمحکم تنظیم کادوسرا نام ہے، یہی وجہ ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں کام کرنے والوں کی یونینیں اور سوسائیٹیاں نہ ہوں۔ اسی عالم گیر اصول کے تحت مدارس عربیہ کا بھی فرض ہے کہ ہر مدرسہ اگرچہ وہ اپنے وسائل و ذرائع اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے کتنا ہی ,, مستغنی اور بے نیاز،، کیوں نہ ہو اس کو بھی اپنی ,, انفرادیت،، ختم کرکے اور کسی محکم جماعتی تنظیم میں شامل ہو کر اپنے نہ سہی اپنے ہم مسلک مدرسوں کی بقاء و تحفظ اور مفاد کی خاطر اس تنظیم کو زیادہ سے زیادہ قوی اور محکم بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ,, تعاونو علی البر والتقویٰ،،۔

ملک کے تمام مدارس و جامعات اس یکجہتی، ہم آہنگی اور نظم و ضبط کے بعد ,, کجسد واحد،، ایک ہوں۔ اگر کوئی اندرونی یا بیرونی طاقت کسی بھی مدرسہ کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا چاہے تو تمام مدارس ملحقہ اور ان کا مرکز,, وفاق،، پوری قوت کے ساتھ اس کا دفاع کریں گے۔

ملحقہ مدارس و جامعات:

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قیام 1959ء سے جون 2016ء تک وفاق کے ساتھ ملحق مدارس کی تعداد14504ہے۔ ملحقہ مدارس کی شاخوں کی تعداد3408ہے۔ اس طرح وفاق المدارس کے تحت کام کرنے والے اداروں کی کل تعداد17912ہے۔ وفاق المدارس سے ملحقہ مدارس کی صوبہ وار اوردرجہ وار تعداد درج ذیل ہیں۔

ملحقہ مدارس کے درجات ِ تعلیم درج ذیل ہے۔

  • (۱) مدارس ابتدائیہ:  ایسے مدارس جن میں ”وفاق“ کے نصاب کے مطابق درجہ ابتدائیہ (ناظرہ قرآن مجید و پرائمری) کی تعلیم دی جاتی ہو۔
  • (۲) مدارس تحفیظ القرآن لکریم:   ایسے مدارس جن میں تحفیظ القرآن الکریم کی تعلیم ہو۔
  • (۳) مدارس تجوید القرآن الکریم : ایسے مدارس جن میں تجوید و قراءة کی تعلیم ہو۔
  • (۴) مدارس متوسطہ : ایسے مدارس جن میں درجہ متوسطہ کی تعلیم ہو ۔
  • (۵) مدارس ثانویہ : ایسے مدارس جن میں درجہ عامہ / خاصہ تک تعلیم کا انتظام ہو۔
  • (۶) مدارس عالیہ:    ایسے مدارس جن میں درجہ عالیہ تک تعلیم کا انتظام ہو۔
  • (۷) جامعات:        ایسے تعلیمی ادارے جن میں درجہ عالمیہ (دورہ حدیث) تک تعلیم ہو۔
 

ملحقہ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات:

وفاق المدارس سے ملحقہ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد1420260اور طالبات کی تعداد782275ہے مجموعی طور پر کل تعداد 2202535ہے۔صوبہ وار تفصیل 0درج ذیل ہے

 

ملحقہ مدارس میں اساتذہ و معلمات کی صوبہ وار تعداد:

 

وفاق المدارس کے امتحانات میں شرکاءکی تعداد:

وفاق المدارس کے تحت سب سے پہلے عالمیہ کا امتحان 1960ء میں منعقد ہوا۔ اور تدریجاَ مختلف درجات کے امتحانات وفاق المدارس کے تحت ہونے لگے۔ 1960ء سے 2016ء تک وفاق المدارس کے امتحانات میں شرکاء کی تعداد(3471646)چونتیس لاکھ اکہتر ہزار چھ سو چھیالیس ہے۔ درجہ وار تفصیل درج ذیل ہے۔

 

وفاق المدارس کانصاب تعلیم

 

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا نصاب تعلیم ان بنیادی نکات پر قائم کیا گیا ہے۔

(1)…… اسلامی علوم و نبوی وراثت کی حفاظت و اشاعت کرنا۔

(2)…… قرآن و سنت کی فہم و تفہیم میں معاون و مددگار فنون میں مہارت۔

(3)…… دلیل او رگفت و شنید کے میدان میں اسلام کی حقانیت اور غلبہ کے لئے مواد کی فراہمی۔

(4)…… فکری طور پختگی اور عملی طور پر تقویٰ و للہیت

(5)…… آئین پاکستان کے تقاضوں پر عمل کے لئے رجال کار کی تربیت۔

(6)…… اسلامی تہذیب و اقدار کا فروغ۔

(7)…… فلاحی معاشرہ کی تشکیل کے لئے فکری تربیت۔

(8)…… جدید اورترقی یافتہ دور کے مسائل اور معاملات کی شریعت اسلامیہ کی روشنی میں تشریح و تطبیق۔

(9)…… عوام الناس کو پیش آمدہ نجی، خاندانی اور کاروباری مسائل کے شرعی حل کے لئے افراد تیار کرنا۔

(10)……قرآن کریم کو حفظ کرانا اور منتخب طلبہ کے ذریعہ قرآن کی دیگر روایات و قرا ء ات کو زندہ رکھنا۔

چنانچہ ”وفاق المدارس العربیہ پاکستان“ سے ملحق مدارس و جامعات میں قرآن، قرا ء ات قرآن، تجوید، حدیث، تفسیر، فقہ،سیرت، تاریخ، اصول تفسیر، اصول حدیث، اصول فقہ،عقائد، فلسفہ، منطق، فلکیات، صرف و نحو، بلاغت و ادب سمیت علوم و فنون عصری تقاضوں کے مطابق پڑھائے جاتے ہیں۔ جبکہ سائنس، ریاضی انگلش اور مطالعہ پاکستان کی میٹرک کے مساوی تعلیم بھی ”وفاق“ کے نصاب میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ”وفاق“ اپنے ملحق جامعات و مدارس کو طلبہ و طالبات کی کمپیوٹر ٹریننگ اور دیگر فنی تربیتوں کی ترغیب مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تعلیمی مراحل

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے17 نومبر 1982ءکو ٬٬ وفاق المدارس ،،کی فائنل ڈگری ٬٬ شہادة العالمیہ ،، کو حوالہ نمبر 8-4/Acad/128 کے تحت ایم اے عربی، ایم اے اسلامیات کے مساوی تسلیم کیا ہے۔

مزید معلومات کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں۔

!Contact Us